Articles - Urdu : لہو۔ضمیر۔ نفرت۔ عمل ،آزادی سے مشروط ہیں - باہڑ بلوچ
Posted by admin on 2012/10/4 12:26:57 ( 861 reads )

لہو۔ضمیر۔ نفرت۔ عمل ،آزادی سے مشروط ہیں - باہڑ بلوچ


انسان اس وقت تک عمل کی طرف نہیں جاتا جب تک وہ مضبوط نہیں ہوتا ہے جسمانی مضبوطی سے کام نہیں چلے گا مضبوط ارادے ہی اصل طاقت ہیں جب ارادے مضبوط ہوں گے تو دنیا کی کوئی طاقت حتیٰ کہ موت بھی اسے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی مضبوط ارادے اس وقت آتے ہیں جب لہو کو دیکھ کر ضمیر جاگ اٹھتی ہے ،نفرت بڑھ جاتی ہے اور دشمن سے اس حد تک نفرت کی جاتی ہے کہ انسان آگ بگولہ ہوکر راستے میں پڑے دشمن کی ہر نشانی کو جلا کر راکھ کردیتا ہے۔ عمل فطری بن جاتاہے تو انسان اپنی غلامی کی ساری بیڑیوں کو توڑ کر آزادہو جاتا ہے۔آزادی کے مضبوط ارادوں کو کمزور کرنا مشکل نہیں ناممکن بن جاتا ہے ۔

سارتر کے نزدیک بربریت اور اذیت ناک موت سے مقابلہ کرنے کی صلایت وہمت کا انسان میں پایا جانا ہی اس کی اصل آزادی و اختیار ہے یقینی موت کے منہ میں ہونے کے باوجود انسانوں کا زندہ رہنا انسانی اختیار و آزادی کا اثبات کرنا ہے جبر استبداد کے سامنے سر نہ جھکانا اور مسلسل نا کہتے رہنے کی جرات و حوصلہ رکھنا ، خواہ اذیتوں سے ہمارا جسم نڈھال ہی کیوں نہ ہوجائے اپنے ہوش وحواس کو سلامت رکھنا ،اپنی ہار نہ ماننا ہی اصل آزادی ہے ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ کسی انسان یا قوم کو آزاد ہونے یا آزادی حاصل کرنے کے لیے مختلف مصائب کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ لہو کے دریا کو پار کرنے کے بعد تب آزادی مل جاتی ہے نہ بکنے اور نہ جھکنے کا عمل انسانی آزادی سے مشروط ہے ہر وہ عمل جو شعوری طور پر کیا جائے آزادی سے مشروط ہے

لہو نے ایک الجزائری بچے کے ارادے کس طرح مضبوط کیے ۔ایک الجزائری سات سالہ نوجوان کو فرانسیسی اہلکار وں نے غوا کرکے اذیت خانوں میں جسم پر لوہے کے تار سے تشدد کیا جس کی وجہ سے اس کے جسم پر بہت سارے نشانات پڑ گئے۔ فرانسیسی فوجیوں نے اس کی ماں کے ساتھ بدفعلی کی تھی بھائی اور باپ کو شہید کردیا کئی روز تک بچے کو سونے نہیں دیا تاکہ وہ اپنے ماں باپ اور بھائی کو بھول جائے ،جب صحافی نے اس کی آرزو کی بارے میں پوچھا تواس نے بلا جھجک جواب دیا میری زندگی کی بڑی خواہش کوئی فرانسیسی فوجی میرے ہاتھ لگے تو میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں ۔لہو اور حالات نے اسے کندن بنایا تھا جو اسے سخت سے سخت عمل کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔نارمل زندگی میں اس نوجوان کے لیے ایسا کرنا شاید مشکل ہوتا مگر انسانی جبر اور لہو نے انہیں اپنے سے بڑا عمل کرنے پر مجبور کردیا ۔الجزائر میں دو کمسن بچوں نے اپنے عمر کے ایک فرانسیسی بچے جو ان کا دوست تھا کو دھوکے سے پہا ڑوں میں لے جاکر چاقو کے وار سے قتل کردیا۔کیونکہ ان بچوں نے فرانسیسیوں کے ظلم اور جبر دیکھے توردعمل کے طور پر اپنے دوست کو قتل کردیا کیونکہ انہوں نے اس لہو کو دیکھا تھا جو الجزائر میں قبضہ گیر فرانسیسی گرا رہے تھے ۔دنیا میں ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے جس کے رونما ہونے کے بعد ایک عمل شروع ہوتاہے ۔جب لہو بہتا ہے تو اس میں حق اور سچائی کی بوُ آتی ہے، ظلم کے خلاف نفرت بڑھتا ہے تو تشدد کے ذریعے ظلم کا جواب واپس اس (ظالم)کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے جو ظالم کی موت اور مظلوم کی زندگی کی ضامن بن جاتی ہے۔

جب جنگ چھڑ جاتی تو دونوں طرف سے لہو اور لاشیں گرتے ہیں ۔ ایک ظالم کی اور دوسری محکوم کی ۔ ظالم اپنی قبضہ گیریت کو طول دینے کے لیے محکوم کا لہو بہاتا ہے اس کا لہو بانجھ ہوتا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ اس کے سامنے کوئی مقصد نہیں ہوتا بلکہ ان کے سپاہی کرایہ دار یا زرآشنا ہوتے ہیں وہ پیسے لے کر لڑتے ہیں اور مرتے ہیں ۔ دوسری طرف محکوم کی لاش ظالم گراتا ہے اور لہو بہاتا ہے یہ لہو بانجھ نہیں ہوتا یہی لہو جب سرزمین پر گرتی ہے تو وہ بارش کی طرح زمین کو سیراب کرتی ہے اس سے نئے اور روشن دن کی ابتدا ہوتی ہے ۔اس وقت بلوچستان میں شہید ہونے والے لہو نے آزادی کے چراغ کو روشن کیا ہے کیونکہ آزادی کا چراغ تیل سے نہیں لہو سے جلتا ہے بلوچ قوم کے عظیم فرزندوں نے بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنا پاک لہو گرا کر قوم کے باغیرت عوام کی ضمیر جگائی یہ ان شہیدوں کی قربانیوں کا ثمر ہے پورا قوم قبضہ گیر کے خلاف دیوار کی طرح کھڑا ہے ۔

دشمن جتنی زیادہ ظلم کرتا ہے زیادہ لاشیں گراتا ہے ،نفرت دوگناہ بڑھ جاتی ہے جب نفرت بڑھ جاتی ہے تو یہ فطری عمل ہے کہ انسان کا خوف ختم ہو جاتا ہے ۔اگر ہم بلوچ قومی تحریک پر نظر دوڑائیں تو بلوچ قوم میں لاشیں پھینکنے کے وقت ہر سیاسی ورکر اور عوام میں خوف کی ایک لہر نے پورے سماج پر قبضہ کیا ہر تیسرا شخص موت کے خوف سے دور بھاگنے کی کوشش کررہا تھا کسی نے دبئی ،مسقط اور دیگر ممالک جا کر جان بچائو تحریک شروع کی تو کسی نے خاموشی کو جان بخشی کے لیے استعمال کیا ۔عام لوگ اتنے خوف زدہ تھے کہ شہید کے لاش کی دیدارمیں خطرہ محسوس کررہے تھے ۔جان بچائو تحریک کے ممبران نے اپنی خوف کو چھپانے کے لیے یا اپنی سیاسی کیرئیر کو بچانے کے لیے اسے حکمت عملی کا نام دے کر پہلے جان بچائو بعد میں کام کرو کی پالیسی اپنائی ۔جب لاشیں گرنے کا سلسلہ بڑھتا گیا تو خوف نفرت میں بدل گیا کیونکہ نفرت کی ایک حد ہوتی ہے جتنی نفرت بڑھے گی موت کا خوف کم ہوتا رہے گا ۔ جب نفرتین اپنی حدیں پار کرتی ہیں تو عمل کی طرف سفر کرتی ہیں ۔ نفرت ہی انسان کو عمل کی طرف لے جاتا ہے اس وقت بلوچ سماج میں جو شخص دشمن سے زیادہ نفرت کرتا ہے وہ زیادہ عملی کام کرتا ہے ۔


Rating: 10.00 (1 vote) - Rate this Article -
Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Bookmark this article at these sites

                   


Main Menu
Search