Articles - Urdu : عورت اور جدو جہد - نود بندگ بلوچ
Posted by admin on 2012/10/7 7:35:44 ( 1403 reads )

عورت اور جدو جہد

تحریر:نود بندگ بلوچ



انسانی معاشرہ وہ معاشرہ کہلاتی ہے جہا ں انصاف ، سماجی برابری اورخوشحالی ہوں جہاں مرد اور عورت کو یکساں اختیارات حاصل ہوں ، اس دنیا میں آج ہزاروں قوم، نسل ،زبان کے لوگ رہتے ہیں سب کا الگ الگ معاشرتی نظام ہے ۔کہیں خوشحالی ، کہیں بدحالی، کہیں آزادی، کہیں غلامی غرض مختلف طرز کے نظام میں لوگ زندگی بسر کررہے ہیں ۔

دنیا کی تاریخ میں ایک نظام ازل سے چلتی آرہی ہے مال و دولت کی ہوس اور طاقت کے زور پر سامراجی گروہ کمزور اقوام پر جبری قبضہ کر کے وسائل کی بے دریغ لوٹ کھسوٹ قومی نسل کشی ظلم و جبر کی تاریخ رقم کرتے ہیں ۔

جیسا کہ امریکہ کی ویت نام و کیوبا پر، فرانس کی الجزائر ،پاکستان کی بنگلادیش ،اور موجودہ دور میں بلوچستان پر ظلم و جبر کی تاریخ رقم کررہی ہے لیکن اس دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ محکوم کی جدوجہد نے سامراج و اس کی نظام کو نیست و نابود کردیا ہے آج بنگلادیش ،ویت نام ،ہندوستان،و الجزائر میں امریکہ،فرانس،برطانیہ و پاکستان کی وجود نہیں ہے،آج دنیا میں اس قوم ،نسل ،معاشرے کی وجود برقرار ہے جس نے اپنی بقا ئ کی خاطر جدوجہد کی ہے ان قومی تحریکوں میں عورتوں کی بے پناہ قربانیاں شامل ہےں ۔

عورت

انسانی تاریخ میں عورت کی بے مثال قربانیاں شامل ہے اسکے باوجودآج عورت کو انسانی درجہ نہیں دیا گیا ہے کسی کی ماں ،کسی کی بہن ،کسی کی بیٹی،کسی کی بیوی،لیکن ہم سمجھنے سے قاصر ہے کہ سب سے پہلے وہ ایک انسان ہے ،مرد اور عورت دونوں برابر کے انسان ہے لیکن جنسی حوالے سے مرد اور عورت کے درمیان کچھ فرق ہے ،لیکن کیا ہم اسی فرق کو مد نظر رکھ کر عورت کو غلام بناتے ہیں ؟ معاشرے کی وجود ،معاشرے کوبرقرار رکھنا ،اور معاشرے کی تر قی کیلئے مرد اور عورت دونوں کی جدوجہد برابری کی بنیاد پر ہے ،لیکن اس کے باوجود عورت کو ماں بہن، بیوی،بیٹی، سمجھ کر غلام بنانا آخر کیوں عورت کو ایک آزاد انسان کالقب دینے سے کتراتے ہے،اس معاشرے میں عورت کو ذاتی ملکیت سمجھا جاتا ہے جب چاہے جس وقت چاہے اپنی مقصد کی خاطر استعمال کیا جا تا ہے ۔عورت کو عملی طور پر غلام رکھنے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر بھی غلام رکھا گیا ہے مذہب،قبائل،رسم و رواج کے نام پر غلام رکھا گیا ہے جب بھی ظلم و جبر حد سے بڑھنے لگے تو ردعمل سامنے آتا ہے کو ئی بھی عورت اپنی آزادی کا اظہار کرے یہ عمل اس حاکم طبقے کو برداشت نہیں ہوتا ہے اسیلئے مرد اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے کیلئے مذہب ،قبائل ،رسم و رواج کو عورت پر بزور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔مرد اپنی حاکمیت کو قائم رکھنے کیلئے کہتے ہے کہ ایسا کچھ کرنا گنا ہے،ایسا کرنے کو ہماری مذہب اجازت نہیں دیتا ہے،ایسا کچھ کرنے سے ہماری رسم و رواج کی توہین ہوتی ہے،یہ باتیں عورتوں کے ذہنوں میں جذب ہوجاتی ہے ،انسان کو نفسیاتی غلام بنانے کیلئے یہ باتیں ہتھیار ثابت ہوتی ہے پھر زندگی بھر غلامی کے وجود کی سبب بن جاتے ہیں انہی باتوں پر عمل پیرہ رہ کر عورت اپنی آزادی کا اظہار کرنے سے کتراتا ہے۔اگر ہم اپنی آزادی کا اظہار کر ے شاہد ہم پر ہزاروں تہمت لگائے جائے گے،غےرت کے نام پر قتل،زندگی بھر چادر و چار دیواری میں بند،انسانیت سوز تشدد یا ہماری سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔جیسا کہ جون آف ورک کو مذہب کے نام پر زندہ جلایا جاتا ہے،گلناز مری،یاسمین،زامر اور جانا بگٹی کوگولیوں سے چلی کردیا جاتا ہے،عورتوں کی بدحالی،غلامی کو دیکھ کر بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہد لفظ عورت کا مطلب غلامی ہے ،یہ سوچ اسیلئے ہمارے ذہنوں میں ابھرتی ہے کہ اس معاشرے میں عورت سو فیصد غلام ہے ہمارے آنکھوں کے سامنے یا خود ہم نے عورت کو غلام بنا رکھا ہے اگر وہ میری ماں ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ میری غلامی کرے لیکن میں بڑا ہوکر کیا کرو ں گا ؟اسی ماں کو غیرت کے نام پر قتل کروگا ،انسانیت سوز تشدد کرو ں گا ،اس پر حاکمیت کروں گا ،میری ماں پر لازم ہے کہ وہ میری حکم کے مطابق چلے ورنہ۔۔۔۔لیکن ہمےں اپنی بچپن یاد نہیں ہے کہ اس عورت نے کتنی دکھ تکلیف سہہ کر ہمےں پالااورہماری پرورش کی ۔کیا یہ ماں اور بیٹے کے درمیان کا کہانی حاکم اور محکوم کی کہانی نہیں ہے؟آج کے جدید دور 21ویں صدی جو انسانیت کی صدی کہلاتی ہے لیکن اس کے باوجود عورت کو انسانیت کے حق حاصل نہیں ہے۔

آج دنیا میں انقلابی تحریکوں نے کافی کچھ بدل ڈالا ہے آج دنیا میں انسانیت کا وجود برقررا ہے دنیا ترقی کی جانب گامزن ہے سامراج و ظالم کافی حد تک نیست و نابود ہوچکے ہیں یہ سب انقلاب کی مرہون منت ہے ،لیکن دنیا میں آج تک ایسا کوئی انقلاب نہیں آیا ہے کہ وہ عورتوں کو سامراجی چکی یا غلامی سے نکال کر ایک آزاد انسان قرار دے ،مردوں کی برابر حقوق میسر ہوں ،بقول ارسطو ،،وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جس میں عورتوں کو مردوں کے برابر حصول مسرت کے مواقع نہ دہیں جا ہیں ۔

آج ہم انقلابی و سیاسی کارکن ہونے کے باوجود ہمارے بہن گھر کے آنگن سے باہر قدم نہیں رکھ پاتی ہے ،آج ہمارے بہن کے دل میں انقلابی جذبہ موجود ہے لیکن اس کو اظہار کرنے کیلئے اجازت نہےں ہے ،میں جہاں کہیں بھی جس وقت بھی کسی کے اجازت کے بغیر جاتا ہوں ،لیکن میری بہن کی یونیورسٹی یا کالج جا نا ممنوع ہے ،کیوں کہ ابھی تک ہمارے ذہین میں حاکمانہ و ظالمانہ سوچ موجود ہے ۔

آج ہم انقلاب ،آزادی،برابری ،انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن عورتوں کے متعلق انسان دشمن رسومات مثلاََ لافی،وٹہ سٹہ،لب،خون بہا میں عورتوں کو دینے کے عمل کی حمایت کرتے ہیں اور اسے اپنی رسم و رواج کا حصہ قرار دیتے ہیں ،درحقیقت آج ہم انقلاب و آزادی کی بات کرتے تو ہیں لیکن انقلاب و آزادی کے متعلق بہت کم جانتے ہیں ،شاہد ہماری ذہنوں میں یہ بات ہوگی کہ قبضہ گیر کو اپنی سرزمین سے بیدخل کرنے کے عمل کو آزادی کہتے ہیں یا چہروں کی تبدیلی کو انقلاب سمجھتے ہیں تو یہ ہماری لاشعوری ہے ۔

آزادی قومی و سماجی انصاف،برابری کی بنیاد پر ہونی چاہی ہے،جہاں انسان عملی و ذہنی طور پر آزاد ہو ،عوررت اور مردوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل ہو،جہاں کوئی سردار ،میر،متعبر،نہیں ہو، کسی کو اجازت نہیں ہونا چاہے کہ وہ ایک آزاد انسان کو مذہب قبائل کے نام پر غلام بنا ئے ،کوئی کسی پر مذہبی یا قبائلی قانون نافذ نہیں کرسکتاہے ہو،قانون ریاست کا ہو، جو انسانی حقوق کی مکمل تحفظ کیلئے بنایا گیا ہوں ۔

انقلاب ہر ایک وہ چیز کو جلا کر راکھ کر دےگا جس سے سامراجیت کی بدبو آتی ہوں ،ہم انقلاب و آزادی کے دعوے دار ۔۔۔ لیکن ہمارے ذہنوں میں ابھی تک استعماری سوچ موجود ہے ،اگر ہمیں انقلاب لا نا ہے تو آزاد ہوکر جینا ہے تو ہر وہ عمل کی مخالفت کرنی چاہیے جو انسان و انسانیت دشمن ہوں چاہے وہ لب،لافی،وٹہ سٹہ،غیرت کے نام پر قتل ،چادر و چاردیوری میں زندگی بھر کی بندش،یا انسانیت سوز تشدد، ورنہ ۔۔۔۔آزادی ایک نئے استعمار کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔

جدوجہد

جدوجہد کرنے سے وہ سب کچھ حاصل ہوتے ہیں جو آپ چاہتے ہو دنیا میں وہ تحریک ،انسان یا معاشرہ کامیاب ہوجاتے ہیں جو صرف جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ،آج دنیا میں اس قوم یا معاشرے کی وجود مٹ چکی ہے جو جدوجہد سے گھبراکر قسمت و نصیب پر یقین رکھتے تھے ،تاریخ میں وہ قوم یاد کیے جاتے ہیں جو جدوجہد کے مراحل سے گزر چکے ہیں ،آج اگر ہم قومی،انسانی،آزادی کے تحریکوں کی بات کرتے ہیں تو ان میں عورتوں کی موثر کردار تھا ۔جس میں لیلی خالد،ایماگولڈن مان،جون آف ورک، اور دیگر بہت سارے جو قومی تحریکوں کے روح رواں تھے ،تہذیب ،ثقافت،رسم و رواج اس وقت زندہ ہوتے ہیں جب قومیں آزاد ہوتی ہے یہ باتیں الجزائری عورتےں کرتی تھےں الجزائر کی قومی آزادی میں الجزائری عورتوں کی بہت بڑی قربانیاں شامل ہے ،الجزائر ی عورتوں نے قومی آزادی کیلئے ہر ایک وہ چیز کی قربانی دی ہے جو شاہد ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہے ،لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قومی تحریکوں پر کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑے گا ،پہاڑی جنگ ہو، یا شہری جنگ ہو،بارود کا بنانا ہو، یا لیٹریچر کا تقسیم کرنا ہو ، جلسہ جلوس ہو یا گوریلوں کی مدد کرنا ہو ،مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد میں شامل تھے۔الجزائر کی اپنی ثقافت ،رسم و رواج ،تہذیب ہے جو مذہب کے حوالے سے اکثر مسلمان ہے الجزائر کی عورتیں مکمل نقاب میں ہوتے تھے ،گھر سے باہر دور گھر کے اندر انھیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا،قومی غیرت، آزادی کی پکار، اور ضمیراتنی ملامت کرگئی کہ باپردہ الجزائری عورتیں گھر بار کو چھوڑ کر پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا گئے ،شہری جنگ کیلئے اپنا قومی لباس چھوڑ کر حکمت عملی کی بنیاد پر دشمن کی لبا س اپناتے تھے ےہاں تک کہ وہ اپنی سروں کے بالوں کو فرانسی عورتوں کی طرح چھوڑا کرتے تھے ،الجزائر عورتوں کی الجزائر سے محبت ےہاں تک بڑھ گئی تھی کہ الجزائری عورتیں وہ شخص سے شادی کرنے کو تیار نہیں تھے جو الجزائری سرمچار یا سیاسی کارکن نہیں ہوتا تھا وہ کہتے تھے کہ میں شادی کروگا تو اس سے جو ایک الجزائری سرمچار ہوں ،الجزائری سرمچار شمس کی ماں کے وہ سہنری الفاظ جو محکوم اقواموں کی ماوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے ( شمس بالغ ہوجاتی ہے تو ایک رات شمس کی باپ پہاڑوں سے آکر شمس کی ماں کو کہتی ہے شمس کو الوادع کرنا میں اُسے لینا آیا ہوں تو شمس کی ماں کہتی ہے اے شمس تو مجھے بے حد عزیز ہے اگر تم صرف میرے اولاد ہوتے تو میں آپ کو کبھی جانا نہیں دیتا لیکن الجزائری اولاد الجزائری سرزمین کے اولاد ہے اس لیے آج میں آپ کو روک نہیں سکتا ہوں ۔) شمس کا تعلق ایک اچھے گھرانے سے تھا جب شمس اور اس کی باپ پہاڑوں پر جاتے ہیں تو شمس کی ماں دولت ،گھروبار سب کو چھوڑ کر پہاڑوں پر چرواہوں کے ساتھ زندگی گزارنے لگا،الجزائری عورتیں جب کیمپو ں میں رہتے تھے اچانک کو ئی سرمچا ر کیمپوں کی جانب آتا تھا تو عورتیں سرمچار کو اپنا امانت سمجھ کر کیمپوں کے اندر سولاتے تھے خود کیمپوں کے باہر سوتے تھے، یقینا آج الجزائری عورتوں کی جدوجہد رنگ لائی آج الجزائریوں کو دنیا میں ایک زندہ قوم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اگر ہم عورتوں کی جدوجہد کے متعلق بلوچ تاریخ کا مطالعہ کرے تو بڑی بہادری دیکھنے کو ملتی ہے ،بلوچ مائیں بچوں کو جنگ کی لوریاں سنایا کرتے تھے ،ننگ و ناموس پر قربان ہونے کا درس دیتے تھے ۔

جب سمی اپنی خاوند سے ناراض ہوکر دودا گورگیج کی میار میں آتا ہے ایک دن دودا سو رہا تھا جب سمی کے خاوند والے آکر سمی کی مال موشیاں لے جاتے ہیں تو دودا کی ماں کہتی ہے (آمرد کہ میار جل انت نیم روچئَ نہ وپس انت کلئَ) وہ مرد جو باہوٹ رکھتی ہے وہ دن مےں نہ سوتی وہ اُسکی ننگ و ناموس کے رکھوالے ہو تی ہے اے دودا اٹھ کر جاوں سمی کے خاوند والوں سے اسکی مال موشیوں کو واپس لانا اگر اس کی خاطر آپ کو اپنی سر قربان کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا دودا اپنی ماں کی قول کا پابند ہوکر عزت و غیرت کی خاطر اپنی جان کو قربانی دےتی ہے ،داد شاہ کی بہن حاتون بی بی ہو یا میر چاکر کی بہن بی بی بانڑی جودوران جنگ اپنی بھائیوں کے کمک کار تھے میر قمبر کی ماں ہو یا میر حمل کی بہن جو اپنے فرزندوں کو جنگ کی لوریاں سنایا کرتے تھے ۔

موجودہ دور میں شہید گلناز مری ،شہید یاسمین ،شہید زامر ڈومکی،شہید جانا ڈومکی،جو اپنی تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شہید ہوگئے ،آج بھی بانک زرینہ مری ،بانک حنیفہ بگٹی سمیت لاتعداد بلوچ خواتین قبضہ گیر کے ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز تشدد سہنے کے بعد بھی آزادی کے موقف سے دستبردار نہیں ہورہے ہیں ۔جیسا کہ دنیا میں لیلی خالد،ایماگولڈن مان،جمیلہ،جون آف آرک،گولڈ امئر کو یاد کیا جاتا ہے تو آج بانک کریمہ بلوچ بھی ان کے صفوں میں شامل ہے ،آج بانک کریمہ بلوچ کی جدوجہد بلوچ خواتین سمیت پوری دنیا کی محکوم اقواموں کی عورتوں کیلئے مشعل راہ بن چکی ہے (’’بقول کامریڈ ذاکر مجید بلوچ ،، بلوچ قوم کو دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست نہیں دی سکتا ہے کہ بلوچ قوم کے پاس عظیم مائیں موجود ہے ) شہید ڈاکٹر خالد، شہید الیاس نذر،شہید غلام محمد،شہید مجید اور دیگر ہزاروں عظیم فرزندوں کی عظیم مائیں ہے آج بلوچ قومی تحریک بڑھتی ہوئی کامیابی کی وجہ ان مائوں کے حوصلے ہے جو اپنی فرزندوں کی شہادتوں پر فکر کرتے ہے ہزاروں فرزند پیدا کرنے اورقربان کرنے کا عہد کرتے ہیں بلوچ مائوں کی جدوجہد تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجائے گا اور پوری دنیا کی عورتوں کیلئے مثال بن جائےں گی۔قومی آزادی کی تحریکیں دن بہ دن پر کٹھن ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کامیابی کی منزلیں طے کرتی جاتی ہے ،اور ان حالات میں آزادی کی سپاہیوں کی زمہ داریوں میں اضافہ ہوگا ،آج بلوچ قومی تحریک اپنی کامیابیوں کی منزلیں طے کررہی ہے ،حالات اور حکمت عملیاں دن بہ دن بدلتے جارہے ہیں ان حالات میں بلوچ آزادی کی سپاہیوں خاص کر بلوچ عورتوں کو شعوری و منظم انداز میں کارواں ئ انقلاب کوجاری رکھنا ہے ،آج کے مقابلے میں کل قبضہ گیر زیادہ شدت کے ساتھ درندنگی کا مظاہرہ کرے گا ،پرکٹھن انقلابی حالات میں بلوچ عورتوں کو انقلابی طرز جدوجہد کرنا ہوگاگھر،گدان،معاشرے میں سیاسی و انقلابی ماحول پیدا کرنا ہوگا اپنی زندگی سیاسی طرز پر گزارنا ہوگا سامراج کی عطا کردہ معاشرتی نظام و رواتی طرز زندگی کو الواع کہ کر اپنی ذات کے اندر انقلاب لانا ہوگا ۔

ھر ایک وہ چیز کو چیلنج کرنا ہوگا جو انسانی و قومی آزادی کی مخا لفت کرتا ہوں چاہے وہ مذہب ،قبائل یا خاندان ہوں اس پر کٹھن حالات کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا ،قومی تحریک کے بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے کر چلنا ہوگا سیاسی شعور و تنظیم کاری کیلئے ہر گھر گدان کا رُخ کرنا ہوگا ،تنظیم کاری کے حوالے سے اپنے صفوں میں اتحاد ،برداشت،ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگا ہر ایک بلوچ خواتین کو تنظیمی نظم و ضبط اور قومی تحریک کا ذمہ دار ہونا ہوگا تا کہ دشمن کی تمام چال بازیاں اور ردانقلابی اقدامات باآسانی نقصان نہیں پہنچا سکے۔

معاشرے کے اندر اپنا سیاسی اسرو رسوخ اس قدر مضبوط بنانا اور اپنے اندر لاتعدا سیاسی کارکن و لیڈر پیدا کرنا ہوگا تاکہ ریاست اور اس کے گماشوں کیلئے بلوچ سرزمین کو تنگ کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اپنی قوم وسرزمین سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکے آج دنیا کے جتنے بھی قومی آزادی کے تحریک کامیاب ہوئے ان میں مسلح جدوجہد کا اہم کردار تھا اور آج بلوچ قومی تحریک کامیابیوں کی منزلیں طے کررہی ہے یہ بھی مسح جدوجہد کی مرہون منت ہے اور دنیا کے تحریکوں میں عورتوں کی مسلح جدوجہد میں بہت بڑا کردار تھا آج بھی کردستانی خواتین پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا ئے ہوئے جدوجہد کررہے ہیں آج بلوچ قومی تحریک میں بھی اس امر کی شدید ضرورت ہے بلوچ عورتوں کو مسلح جدوجہد کیلئے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنانا ہوگا آج جس قدر بلوچ قومی تحریک کو دنیا بھر میں پزیر ائی مل رہی ہے ،بلوچ عورتوں کی مسلح جدوجہد کرنے سے اس کی کامیابیاں دُگنی ہوجایئگی جہاں عورتوں کی مسلح جدوجہد کرنے سے کامیابیوں میں اضافہ ہوگا دوسری طرف معاشرے میں ہزاروں تبدیلیاں رونماہوگی اور دشمن کی پریشانیوں میں اضافہ اور شکست کے دن قریب تر ہوجائے گے ۔

نام نہاد سردار،نواب،میر،وڈیروں کی عزت خاک میں مل جایئگی ،ریاستی گماشتوں اور مذہبی ٹھےکداروں کے کالے چہرے واضح ہوجا ئے گے ، قبضہ گیر کی جانب سے بلوچ خواتین کے حوالے سے جو تاثر عام کیا ہے کہ بلوچ اپنی عورتوں پر ظلم کرتے ہیں ،بلوچ خوتین جاہل ہے ریاستی پروپےگنڈے خاک ہوجائے گے ،بلوچ خواتین کو دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوگا ( بقول کامریڈ ذاکر مجید بلوچ دنیا میں صرف اور صرف طاقت کو تسلیم کیا گیا ہے ،قبضہ گیر بزور طاقت مظلوم قوموں پر قبضہ کرتے ہیں مظلوم قوم کو قبضہ گیریت کا خاتمہ کرنے کیلئے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا )آج ہماری مائیں ،بہنیں ،بیٹیوں کو ایک بات سے اپنے آپ کو ذہین نشین کرناہوگا اگر دنیا میں اپنی وجود برقرار رکھنا ہے تو زندہ قوموں میں شمار ہونا ہے تو ھر ایک بلوچ خواتین کو سامراجی طرز زندگی،سامراج کی معاشرتی نظام ،مذہبی،قبائلی،خاندانی غلامی کیخلاف جدوجہد کرنا ہوگا اس کیلئے قلم اور ہتھیار کا انتخاب کرنا ہوگا بلوچ عورتوں کو لیلی خالد ،ایماگولڈن مان،گولڈ امئر،بانک کریمہ بلوچ جیسا کردار ادا کرنا ہوگا گھر سے گلیوں تک ،گلیوں سے شاہراوں تک ، شاہراوں سے میدان تک،میدان سے انقلاب کی منزل تک پہنچناہوگا بس منہ میں ایک ہی صداہوں ۔


انقلاب زندہ بادغلامی مردہ باد جاہلیت مر دہ باد

Rating: 8.00 (1 vote) - Rate this Article -
Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Bookmark this article at these sites

                   


Main Menu
Search