Articles - Urdu : بلوچستان میں آئندہ الیکشن کے بعد حالات مزید ابتر ہوں گے - حفیظ حسن آبادی
Posted by admin on 2012/10/8 8:04:58 ( 1298 reads )

بلوچستان میں آئندہ الیکشن کے بعد حالات مزید ابتر ہوں گے - حفیظ حسن آبادی



ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں اس بات کے امکان کو رد کر دیا تھا کہ بلوچستان میں حالات کی سنگینی کا بہانا بناکر کوئی گورنر راج وغیرہ کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے جس کیلئے ہماری یہ دلیل ٹھوس بنیادوں پر ہے کہ اگر وہی کام نام نہاد جمہوری حکومتیں کرنے کو تیار ہیں تو اُسکے لئے فوج کو مزید بد نام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

فوج کیلئے اس سے بہتر پوزیشن کیا ہوسکتی ہے کہ وہ حکم چلا کر قتل بھی کررہا ہے لیکن کسی کے سامنے جوابدہ نہیں اور اس پر ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ عسکری قوت کی بد نامیاں اپنے سر لیئے قطاروں در قطار نام نہاد قوم پرست ، ملا اور پاکستان پرستوں کی لائن لگی ہوئی ہے جو ہندوستان کے مشہور شاعر شکیل بدایونی کی غزل کا یہ مصرعہ یاد دلاتے ہیں

وہ اُٹھے ہیں لے کے خُم و سبو ارے شکیل کہا ں ہے تو

تیرا جام لینے بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

اسی ڈر سے کہ اگر میں نہیں گیا تو اور کوئی جائیگا اور میں خالی ہاتھ رہ جائوں گا کے خوف سے ہر ایک دوسرے سے زیادہ پنجاب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر حالات کو درست سمت کی طرف لانے کی تدبیریں بتا تا ہے اور پنجاب بمعرفت اسلام آباد ڈوبنے کو تنکے کا سہارا کے مترادف اُنکی جھوٹی تسلیوں پر قناعت کرنے پر مجبور ہے ۔ اس کے باوجود کہ سب جانتے ہیں پاکستانی فوج اور سیاسی قیات کے پاس اسکے سوا کوئی دوسرا قابل عمل منصوبہ نہیں اس لیئے سب کی سوئی بھی اسی بات پر اٹکی ہوئی ہے کہ نئے لوگ آئیں گے اور وہ بلوچستان کے حالات سازگار کرنے میں زمین ہموار کریں گے لیکن دل میں وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ حالات جو اس حدتک دور جاچکے ہیں انہیں وہ لوگ ہرگز دوبارہ پاکستانی ڈگر پر نہیں لا سکتے جنہیں بقول پاکستانی صحافی حامد میر کے اصل اسٹیک ہولڈر اور انکے حمایتی عام بلوچ غدار کہتے ہیں ۔ ان کا واویلا کہ اگر بلوچستان میں الیکشن نہیں ہوئے تو حالات بہت خراب ہوں گے تو ان سے کوئی صرف دو سوال پوچھے کہ اب حالات کونسے اچھے ہیں ۔ دوسرا آپ کے پاس کیا گارنٹی و فارمولا ہے حالات کو بہتر کرنے کی؟ آپ جس فارمولے کے تحت حالات کو کول ڈائون و گفت و شنید کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں جسکے مطابق ایف۔ سی کی بیرکوں میں واپسی ، گمشدگان کی بازیابی اور آخر میں شفاف الیکشن کا انعقاد ! تو اس پر اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر پاکستانی عسکری قیادت کو آپ کے یہ مطالبات منظور ہوتے تو گذشتہ ساڑھے چار برسوں سے کوئی ان پر توجہ دیتا ۔ اب بھی جب الیکشن ہوں گے تو آپ کو کوئی بھی شفاف الیکشن کی گارنٹی نہیں دے گا اور نہ ہی آ پ کے مذکورہ بالا مطالبات کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کراتا ہے یا دوسرے لفظوں میں آپ مطالبات کی رٹ لگا تے رہیں گے لیکن پورا ایک بھی نہیں ہونے والا بلکہ آپکو اسی تنخواہ پر کام کرنے پر آمادہ ہونا پڑے گا۔ یہ بات یقینی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جس طرح جی ۔ایچ ۔کیو کے سامنے بے بس ہے آنے والے نواز شریف اور عمران خان کی حکومت ان سے بھی بدتر بے زبان ثابت ہوگی۔ اسکی وجہ یہ نہیں کہ یہ لوگ بلوچستان میں امن (اُنکے معنوں میں ) نہیں چاہتے بلکہ بلوچ مسئلہ بارے اُس زاویے سے سوچتے ہی نہیں جس سے اب عام بلوچ سوچ رہا ہے ۔ اُسکی زندہ مثال یہ ہے کہ گذشتہ ساڑھے چار برسوں میں نواز شریف یا عمران خان بشمول پیپلز پارٹی و دیگر بڑی پاکستانی جماعتوں کے کسی نے بھی بلوچ مسئلہ کو اُس انداز سے دیکھنے کی ہمت نہیں کی جس کیفیت میں وہ مسئلہ وجود رکھتی ہے۔ سب کی تقاریر و نمائشی ہمدردانہ بیانات کا بغور جائزہ لیا جائے تو آپ کو انکے ہاں اس مسئلے کا حل بلوچ گمشدگان کی بازیابی ، بلوچستان کے فنڈز میں اضافہ یا زیادہ سے زیادہ اُنکا درست ہاتھوں کے ذریعے تقسیم کرنا ہے یا شہید نواب بگٹی کے قاتلوں کو گرفتار کرنا جیسے ذیلی مطالبات کا پورا ہونا نظر آتا ہے۔ لیکن کسی نے بلوچ قوم کے اس خدشے کی طرف رجوع نہیں کیا کہ بلوچ کا قومی مسئلہ کس طرح حل کیا جائے؟کسی نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کا عندیہ نہیں دیا کہ اَسی سال کے مالی طور پر مستحکم نواب کو ضعیف العمری میں کینسر زدہ پائوں کیساتھ پہاڑوں کا رخ کرنے کی ضرورت کیوں پڑی۔ نہ ہی کسی نے اس بارے سوچنا گوارا کیا کہ بلوچ اپنے وجود کو خطرے میں محسوس کررہا ہے جس کیلئے راقم نے اپنے دسویں مضامین میں بلوچوں کے مستقبل کو پاکستان میں ریڈ انڈین سے تعبیر کیا اور ہمیں آج بھی اس بات پر یقین ہے کہ اگر بلوچ نے پاکستانی آبادی کے سیلاب سے اپنے لیئے کوئی چارہ سازی نہیں کیا تو وہ کسی بھی وقت اُس انسانی سیلابی ریلے کی زد میں آکر آج کے تیز رفتار مشینی دور کی رفتار سے اپنی شناخت اور زمین دونوں کھو بیٹھے گا۔ اب آتے ہیں اس جانب کہ ہم نے پاکستانی فریم ورک کے اندر سیاست کرنے والے بلوچوں کی تجاویز کو مسترد کیا اور اسی طرح حکمرانوں کی طرف سے جاری و ممکنہ اقدامات کو مزید خرابی بسیار لانے کا سبب کہا تو پھر ان حالات میں آئندہ حکومت بلوچستان میں کیا کر سکے گی اور ان واویلہ کرنے والوں کی وجہ بیقراری کیا ہے جو ایک اضطرابی ماحول بنا چکے ہیں کہ یہاں الیکشن نہیں کرائے جائیں گے۔ اگر دونوں سوالوں کا جواب ایک ایک جملے میں دیا جائے پہلے کا ممکنہ جواب یوں ہے کہ حالات آئندہ ہر دن کیساتھ مزید خراب ہوں گے اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ پاکستانی سیاستدان اُس ہندو سوداگر کی طرح ہیں جنکے بارے میں کہتے ہیں کہ جب انکی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی تو وہ اپنا سامان ناپتے تولتے ہیں تاکہ بیکار نہ بیٹھا جائے یہ بھی بیکار بیٹھنا پسند نہیں کرتے اس لئے کونی نہ کوئی سرگرمی ڈھونڈ کر اس میں جُت جانے کی سعی کرتے ہیں تاکہ ارد گرد کے لوگ یہ سوچنے لگیں کہ ہمارے لیڈر صاحبان کو عوام کے غموں سے ایک منٹ بھی فرصت نہیں ملتی دوسرا یہ کہ عام لوگوں پر یہ احسان بھی جتا سکیں کہ دیکھیں حکومت بالکل انتخابات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی لیکن ہمارے دبائو سے مجبور ہو کر عوام کو رائے دینے کا حق دینے پر راضی ہوئی ہے۔ لیکن دراصل حقیقت حال یہ ہے بلوچستان میں الیکشن بھی ہوں گے اور حالات بھی مزید خراب ہوں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ حکومت کی باگ ڈور کسی نواب نما بلوچ کے ہاتھ میں ہو یا کسی مڈل کلاس یا تھرڈ کلاس طفیلی کے ہاتھ میں کیونکہ جو انتخابات کرانے جارہے ہیں اور وہ جو حصہ لینے کی تیاریوں میں ہیں دونوں کے ہاتھوں میں کچھ نہیں جو اصل اسٹیک ہولڈر ہیں یہی بتاتے ہیں کہ جن پر ظلم ہورہا ہے وہ ظالم سے کئی زیادہ اہمیت و باحوصلہ ہیں مظلوموں کو اپنے روشن کل پر یقین کامل ہے وہ نہ سرکار سے گفت و شنید کا مطالبہ کرتے ہیں نہ کسی مراعات کے طلبگار ہیں جب کہ سرکار من موہن سنگھ،حامد کرزئی اور اوبامہ تک رسمی وغیر رسمی طور پر بلوچوں کی شکایات کی فائل پیش کرکے انہیں کسی نہ کسی طرح منانے یا ختم کروانے کی درخواست کرچکے ہیں مگر دنیا کی کوئی سنجیدہ طاقت پاکستان کی ایسی سازش کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں بلکہ ایسی شکایتوں کے جواب میں سب پاکستان کا اعمال نامہ کھولتے ہیں جس میں سرحد پار افغانستان و ہند میں دہشتگردوں کی پشت پناہی ، افغانستان میں سفارتخانوں پر حملے ، اپنے پسندیدہ طالبان کی ہر طرح کی مدد، بن لادن کو پناہ دینے کی کتھا، اپنے ملک میں اسلامی انتہا پسندوں کو دیگر مذاہب کی قوموں کے خلاف بھڑکانے میں امریکہ و مغرب کے وسائل کا بے دریغ استعمال ، اقلیتوں کے ساتھ ظلم اور ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا ، کرپشن کی حوصلہ افزائی ، بلوچوں کی نسل کشی وغیرہ وغیرہ ۔ اب فہرست میں ایک اور سنگین مسئلے کا اضافہ ہوا ہے جو شاید آئندہ دنوں میں اسلامی ملکوں کو بھی پاکستان کے کردار پر سوال اٹھانے پر مجبور کرے وہ ہے پاکستانی عسکری قوت اور انکے مقامی گماشتوں کی طرف سے قرآن اور مسجد کی بے حرمتی۔ایسا پہلا اندوہ ناک واقعہ نیوکاہان میں 16ستمبر 2008کو پیش آیا ، جب ایف سی نے مسجد میں جوتوں کیساتھ گھس کر اور لوگوں کی چادروچار دیواری کا تقدس پائمال کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جسکے نتیجے میں 26لوگ زخمی ہوئے جن میں 6خواتین شامل تھیں ۔44کو زدوکوب کرتے ہوئے ساتھ لے گئے جن میں سے 18وہ تھے جو ایف سی کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے اسکے بعد ڈیرہ بگٹی و کوہستان مر ی میں گھروں کو نذر آتش کیا گیا تھا جہاں پر موجود قرآن مجید کے نسخے کسی نے نکالنے کی زحمت نہیں کی تھی ، کوئٹہ میں بلوچ قومی لیڈر حیر بیار مری کے گھر پر قبضہ کے وقت الماریوں کو قرآن مجید کے ساتھ نذر آتش کیا تھا اب گزشتہ دنوں خاران میں بھی ایف سی نے شب برات کی رات مسجد میں بوٹوں کے ساتھ گھس کے سو سے زیادہ بیگناہوں کو گالیاں دیتے ہوئے اپنے ٹرکوں میں پھینکا تھا گھروں میں گھس کر خواتین کو اس سوال پر کہ کون ہو کیا چاہییے؟ زدوکوب کیا تھا ۔ یہ واقعات اب اس تسلسل سے ہورہے ہیں کہ اب ان پر خاموشی اسلامی دنیا اور پاکستان میں موجود مذہبی جماعتوں کیلئے ممکن نہیں رہے گی یہ وہ عوامل ہیں جو پاکستان میں عمومی اور بلوچستان میں خصوصی طور پر ناانصافی اور ریاستی بربریت پر مبنی اقدامات کے سامنے روک لگانے کا سبب بنیں گی۔ جبکہ دوسری طرف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرمچاروں کی سرگرمیوں میں اضافہ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ اُنکی تحریک آزادی کا جغرافیہ ہر نئے دن کیساتھ بڑھ رہا ہے اور اُسکے مخالفوں کیلئے ریاستی الیکشن میں جانا مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے۔ ان میں خاص کر اُن علاقوں میں سرکاری فورسز پر حملے جہاں اس سے پہلے کم ہی ایسے واقعات ہوتے تھے ۔دوسرا بلوچ وسائل کے لوٹ کھسوٹ کے سامنے کھڑے ہونے کا رجحان بڑھ رہا ہے گوکہ بلوچ وسائل لوٹنے والے ٹرکوں پر ابھی تک اکثر حملے سوراب یا خضدار سے اس طرف ہوتے ہیں اور وڈھ سے اُس طرف تقریباًحملے نہیں ہوتے لیکن اسکا مطلب ہرگز یہ نہ لیاجائے کہ لشکر بلوچستان لاہور اور کراچی میں دھماکہ کرسکتی ہے ، جھالاوان سے بلوچ معدنیا ت کے چوروں کو یونہی آسانی سے گزرنے دے گی ؟ یقینا نہیں ۔ بلوچ سرمچاروں کی سرکاری اعلانات سے بے نیازی اس بات کی غماز ہے کہ وہ بے حاصل گفت وشنید کے چکر میں پڑنے کے بجائے اپنی کاروائیوں کو بہتر کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں جبکہ آزادی پسند الائنس بی۔این ۔ایف اور دیگر تنظیم و جماعتیں بی ۔آر۔پی سمیت تعداد کے بجائے معیار پر توجہ کی جارہی ہیں ۔11اگست کو یوم آزادی کے طور پر منانا اور 14اگست کو پورے بلوچستان میں یوم سیاہ اُنکے اُس قوت کا برملا اظہار ہے جسے زبان زدعام میں عوامی حمایت کہتے ہیں جس سے ریاست اپنی تمام تر قوت و رعب و دبدبہ کے باوجود محروم ہے ۔ان سب کے اوپر بلوچستان کا بین الاقوامی اہمیت حاصل کرنا ہے جو ہر نئے دن کیساتھ جدوجہد کرنے والوں کے حوصلے بڑھاتی اور پاکستان اور اسکے حامیوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔ بلوچ تحریک آزادی کے حق میں ان تما م مثبت باتوں کے مقابلے میں پاکستانی ریاست اور اسکے الیکشن میں جانے والوں یا گورنر راج کا خواب دیکھنے والوں کے پاس ایک بھی مثبت بات ایسی نہیں جسے دیکھ کر یہ کہا جاسکے کہ یہ لوگ حالات پر قابو پانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ بجز اسکے کہ ان کرپٹ لوگوں کی جگہ نئے کرپٹ لوگ بھرتی کیئے جائیں اور جس ایڈہاک ازم کے تحت اب تک پاکستان چلاآیا ہے ، آئندہ بھی اس وقت تک چلائیں جب تک یہ چکڑا مکمل طور پر رُک نہیں جائے۔ بلوچ اور بلوچستان کا مسئلہ انکے بس کا روگ نہیں یہ تو اپنے پورے ملک میں ایک بھی ادارہ صحیح چلاکر اُسکے مسئلے حل نہ کرسکے ہیں بلوچستان تو بہت دور کی بات ہے۔

Rating: 10.00 (1 vote) - Rate this Article -
Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Bookmark this article at these sites

                   


Main Menu
Search