Articles - Urdu : حقائق سے فرار کی روش - بجاربلوچ
Posted by admin on 2012/10/11 9:22:09 ( 877 reads )

حقائق سے فرار کی روش - بجاربلوچ



مقبوضہ بلوچستان مسئلہ بابت پاکستانی سےنےٹ مےں بحث کی خبر02اگست2012؁ ئ کے اخبارات مےں شائع ہوئی ہے جس مےں بعض ارکان سےنےٹ کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ’ ’مرض کےنسر بن چکا ہے بلوچستان مسئلہ کے حل کےلئے چین اورسعودیہ سے مدد حاصل کی جائے ‘‘۔پاکستانی سےنےٹ،قومی اسمبلی اوراعلیٰ سطحی اجلاسوں مےں مقبوضہ بلوچستان مسئلہ بابت بحث ومباحث، پالیسی سازی اورمسئلہ کے حل کےلئے کمےٹیوں کی تشکیل کی خبرےں اکثر ذرائع ابلاغ مےں آتے رہتے ہےں مگراس بابت کوئی عملی پےشرفت دےکھنے مےں نہیں آرہاہے جس کی بنیادی وجہ پاکستانی حکمرانوں (خصوصی طور پرملٹری اسٹےبلشمنٹ)کی روایتی استعماری سوچ ہے۔ان مےں نہ ماضی مےں بلوچستان کی آزادریاستی وجودکوتسلیم کرنے ومارچ1948؁ئ مےں بلوچستان پرپاکستان کے جبری قبضہ کواےک ناجائزاستعماری فعل ماننے کی جرات ہے اورنہ قومی آزادی کےلئے بلوچ عوام کی عظیم قربانیوں وانتھک جدوجہد کے پیچھے پختہ عزم اوربے پناہ تڑپ کودےکھنے کی بصیرت ہے اسلئے بلوچ قومی مسئلہ(بقول ان کے بلوچستان مسئلہ)کے حل کے لئے ان کی اب تک کی تمام پالیسیاں اوراقدامات نہ صرف بری طرح ناکامی سے دوچارہےں بلکہ ان کی استعماری ظالمانہ سوچ، پالیسیوں اوراقدامات کے باعث بلوچ عوام کے مصائب اوران کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں مےں روزبروز اضافہ ہوتاجارہاہے۔بلوچ عوام پاکستانی ریاستی پالیسیوں واقدامات کے باعث درپےش مصائب وانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کوقومی آزادی کی قیمت اورقربانی سمجھ کربڑی بہادری سے ریاستی جبر کا مقابلہ کرتے آرہے ہےں ۔بلوچ قومی مسئلہ بابت پالیسی سازی وفےصلے کااختیاردراصل پاکستانی فوج وخفیہ اداروں کے پاس ہے جبکہ کھٹ پتلی جمہوری حکومت ،ربڑاسٹمپ پارلیمنٹ واسمبلیاں اورجعلی منتخب نام نہاد نمائندے بلوچ قومی مسئلہ بابت فوج وخفیہ اداروں کے فےصلوں ،پالیسی واقدامات کی حمایت ودفاع کرنے کے پابند ہےں ۔حتیٰ کہ بظاہرطاقتوراورسرگرم پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کوبھی مقبوضہ بلوچستان مےں بے لگام ریاستی دہشتگردی وانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے مےں پرمارنے کی اجازت نہیں ہے۔بلوچستان مےں امن وامان و جبری لاپتہ بلوچ فرزندوں کے مقدمہ مےں سپریم کورٹ کی گذشتہ چارماہ کی کارروائیوں سے اس بات کا مشاہدہ بخوبی کیا جاسکتاہے۔

جب معاملے کااختیارہی فوج کے پاس ہے توظاہرسی بات ہے کہ فوج توکوئی فوجی حل ہی ڈھونڈلے گا۔جہاں تک پاکستانی ارکان سےنےٹ کی جانب سے بلوچ قومی مسئلہ کوکےنسرقراردےنے اوراس کے حل کےلئے چین وسعودیہ سے مددلیئے جانے کی تجویزکاتعلق ہے تویہ ان کااپنا نہیں بلکہ پاکستانی فوج اورخفیہ ادروں کی سوچ ہے۔لگتاہے کہ پاکستانی فوج بلوچ قومی تحریک آزادی کے خلاف بڑے پےمانے کی فوجی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کررہاہے جس کےلئے وہ چین اورسعودی عرب سے فوجی ومالی امداداوروسائل حاصل کرنے کا منصوبہ بنارہاہے۔اس خیال کواس امرسے تقویت ملتی ہے کہ بظاہربلوچ معاملے مےں چین اورسعودیہ کی جانب سے ثالثی یاکسی اورطرح کاکوئی کردار اداکرنے کا کوئی امکان نظرنہیں آرہاہے کیونکہ بلوچ قومی تحریک آزادی سے جُڑی تنظیموں پرچین وسعودیہ کانہ کوئی اثرورسوخ محسوس ومعلوم کیاجاسکتاہے اورنہ اب تک ان کا آپس مےں کوئی تعلق رہاہے۔البتہ بلوچ قومی تحریک آزادی کوچین سے یہ شکایت رہاہے کہ چین کی حکومت اور مختلف چینی کمپنیاں بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مارمےں پاکستان کی مدد کررہے ہےں جےسے کہ سےندک گولڈاےنڈکاپر پروجےکٹ،گوادرڈیپ سی پورٹ اوربہت سے دیگر منصوبوں مےں چین پاکستان کی مددکرتارہاہے جن کے باعث متعددبار چینی انجینیئرزاوراہلکاربلوچ سرمچاروں کی کارروائیوں کا ہدف بن چکے ہےں ۔امریکہ کے ساتھ ساتھ چین اورسعودیہ ہی وہ ممالک ہےں جو پاکستان کوسب سے ذیادہ فوجی واقتصادی امدادوخےرات دےتے آرہے ہےں ۔بلوچ قومی تحریک آزادی کی چین یاسعودیہ سے براہ راست کوئی دشمنی یا تنازعہ نہیں ہے اسلئے چین اورسعودیہ کوبلوچ قومی تحریک آزادی کے خلاف پاکستان کی کسی قسم کی مددسے گرےز کرناچاہیئے کیونکہ بقول پاکستانی ارکانِ سےنےٹ پاکستان کےنسرزدہ مریض کی مانند ہے۔اس کا غےرفطری وجودخاتمہ کے قریب ہے ۔اس خطہ کی ترقی،استحکام اورروشن مستقبل آزادبلوچستان سے وابسطہ ہے۔وےسے بھی چین اورسعودیہ کوانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بےن الاقوامی دبائو کاسامناہے اگروہ پاکستان کی کسی قسم کی فوجی یااقتصادی مددکرےنگے تو ان کی اس امداد کو پاکستان مقبوضہ بلوچستان کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرمبنی کارروائیوں مےں بروئے کارلائے گا جس کے باعث نہ صرف بلوچ عوام مےں ان کے خلاف نفرت پےدا ہوگی بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے مےں انکے خلاف بےن الاقوامی دبائو مےں بھی اضافہ ہوگا

بلوچ قومی مسئلہ کے حل کےلئے فوجی ذرائع یاباالفاظ دیگرطاقت کے بے درےغ استعمال کی پاکستانی ریاستی پالیسی پنجابی اسٹےبلشمنٹ کی روایتی استعماری سوچ کی عکاسی کرتاہے جو کہ قومی تحاریک آزادی کی شاندارکامیابیوں کی تاریخ وسچائی کوجھٹلانے اورحقائق سے فرار کی ان کی عاقبت نااندےش روش کو ظاہرکرتاہے۔ بلوچ قومی مسئلہ کے حل کے حوالے سے پاکستانی مقتدرہ کی اس روایتی استعماری سوچ اورپالیسی مےں کسی مثبت تبدیلی کابظاہر کوئی امکان بھی نظرنہیں آرہاہے۔ پاکستان کاغےرفطری وجود اور اس کی قبضہ گیرانہ پالیسی نہ صرف بلوچ قوم کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال وانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بن رہاہے بلکہ علاقائی وعالمی امن،استحکام،مذہبی رواداری اورجمہوری اقدار کے فروغ مےں بھی بہت بڑی رکاوٹ ہے۔اےٹمی اسلحہ وٹےکنالوجی کی غےرذمہ دارانہ پھےلائو،آمریت وآمرانہ اقدارکے فروغ اورمذہبی انتہاپسندی کی سرپرستی کے ذریعے پاکستان نے علاقائی وعالمی امن واستحکام کوخطرات سے دوچار کردیاہے ۔ اقوام متحدہ ،یورپی یونین،اوآئی سی،نےٹو سمےت عالمی برادری کو چاہیئے کہ بلوچ قوم کے خلاف پاکستان کی جارحانہ کارروائیوں اورناپاک منصوبوں کی روک تھام کےلئے موثراقدام کرےں تاکہ بلوچ قومی مسئلے کامنصفانہ حل نکالنا اور انسانی حقوق کی مذید سنگین خلاف ورزیوں کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ بلوچ قومی مسئلے کا منصفانہ ،فطری اوردےرپا حل آزاداورمتحدہ مملکت بلوچستان کی تشکیل ہے۔آزادبلوچستان اپنے محل وقوع،معدنی وسمندری وسائل،اعلیٰ بلوچ قومی اقداراورروایات کے باعث مذہبی انتہاپسندی کی روک تھام اورعالمی وعلاقائی معیشت،تجارت، سکیورٹی اورجمہوریت ومذہبی رواداری کے فروغ مےں زبردست معاون ثابت ہوگا۔

Rating: 0.00 (0 votes) - Rate this Article -
Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Bookmark this article at these sites

                   


Main Menu
Search