Articles - Urdu : سردار، سیّد اور ملّا - حسّان بلوچ
Posted by admin on 2012/10/15 6:40:47 ( 868 reads )

سردار، سیّد اور ملّا - حسّان بلوچ


دنیا میں کئی تحریکیں چلی ، کئی قوموں نے اپنی آزادی کے لئے جنگیں لڑیں اور عظیم قربانیاں دیں اور کئی ایسے قومیں ہیں جو آج بھی اپنی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔ بلوچستان میں جو حالات چل رہے ہیں انکا اگر بغور جائزہ لیا جائے توکوئی خاص پیچیدگی نظر نہیں آتی، بلوچوں کی تحریک آزادی کی طرف گامزن ہے۔ مگر سامراج بھی اپنی ہر ممکن کوشش کو آزمانے سے گریز نہیں کرتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سامراج نے جہاں قدم رکھا ہے وہاں سب چھوڑ کہ چند مخصوص طبقوں کا استعمال کیا ہے جنہوں نے انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

ؓتاریخ دانوں اور تحریک دانوں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ تین طاقتوں یعنی ،سردار،سیّد،ملّا،انہیں ختم کر دو ریاست میں امن و امان رہے گا اورتحریکوں میں دشواریاں آسان ہوجائیں گی۔ یہ وہ استحصالی طبقے ہیں جن کا تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے انسانیت کی دھجیاں اڑا دی محض اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے۔ انکے پیشے و محکمے تو الگ ہیں (بظاہر) مگر انکے کام اور انکا مقصد ہرگز الگ نہیں ، کیونکہ سب بھی ایک ہی تالی کے چھٹے بےٹے ہیں بس لباس علیحدہ اوڑھا ہوا ہے۔

سرداروں کا تاریخی لحاظ سے اور موجودہ لحاظ سے موازنہ کیا جائے تو ایک عام فہم دماغ بھی دھوکہ نا کھاے۔ ایک وہ سردار جو محترم سنڈیمن سے قبل بلوچ قوم کی رہنمائی کرتے تھے، اور ایک آج کے دور کے سردار جو جناب محترم سنڈیمن کی پیداوار ہیں ۔ چونکہ بلوچستان کہ بیشتر علاقوں میں سنڈیمن سرداروں کا نام ہی رہ گیا ہے مگر سنڈیمن کے اولادوں میں سے کچھ اب تک سینا تھانے دھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بلوچ قومی تحریک کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش ہیں ۔ چونکہ پاکستان اپنی آخری سانسیں گِن رہا ہے جو امریکہ کے مرہون ِ منّت ہے کہ اسے پانچ دن زندہ رکھے ےا پانچ سال یا پانچ سو سال ۔تحریک ہر چیلنج سے گزرنے کو تیار ہے ۔ کیا سردار ثنائ اللہ اور رئیسانی برادرز بشمول کچھ اور سرداروں نے اپنی نجی لشکریں تشکیل نہیں دی جو کہ اسلحہ سے لیس ہیں ؟ یہ اپنی تیاریاں کر رہے ہےں کہ کل کو اگر پاکستان ٹوٹ گیا تو ہمیں کسی اور آقا کی مدد ملے اور اس سے پہلے کہ آزادی پسند ہمیں مار ڈالیں ہم انہیں مار دیتے ہیں ۔ بدمعاشی کا تو یہ عالم ہے کہ الیکشن سر پہ ہیں اور جناب چودھری سردار ثنائ اللہ صاحب دھمکی کا استعمال کرتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کون مجھے ووٹ نہیں دیتا، دوسری جانب جناب رئیسانی برادرز نے تو چوری ڈکھیتی ، لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کی بازار گرم رکھی ہوی ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے سرداروں کی تو بات ہی چھوڑیں ، انکا تو کام ہی قوم کو سیڑھی بنا کر اپنے پیٹ کا بندوبست کرنا ہے ۔ سردارطبقہ بلوچ قوم کے لیے ناسور ہیں مگر افسوس کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی قوم کے چند با شعور افراد نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔

سیّد حضرات تو بالکل دودھ کے دھلے ہوئے ہیں کہ جیسے انکا کوئی ملک نہیں پوری دنیا انکی ہے۔ ارے بھائی اتنے سیّدآئے کہاں سے؟ سرکار نبیﷺ کی کوئی نرینہ اولاد جوانی تک نہیں پہنچی اور باقی انکا جو خاندان تھا وہ بھی انتا بڑا تھا نہیں ۔ قریش قبیلے کے اگر فرزند موجود بھی ہیں تو وہ عرب ممالکوں میں محدود ہیں پھر سیّدوں کی سب سے زیادہ تعداد پاکستان میں کیسے موجود ہیں ؟۔ اور یہاں ہر نا اہل و اہل بندہ اٹھ کہ اعلان کر دیتا ہے جی کہ میں تو سیّد ہوں میں نبی کی اولادوں میں سے ہوں ، میرا مرتبہ اونچا ہے، ہر گلی سے کوئی گیلانی نکلتا ہے، کہیں سے قریشی نکلتا ہے، کہیں سے بخاری نکلتا ہے،کہیں سے کیا نکلتا ہے۔ غرض شکل پنجابی کی اور نام عربی ،یہ لوگ مرشدی کادعویٰ کرتے پھرتے ہیں اور اپنے لیئے Safe Cornerپیدا کرکے سادہ اور مسکین عوام کے پیٹ سے اپنے پیٹ کا بندوبست کرتے ہیں . اگر کوئی شخص خواہ وہ واقعی نبیﷺ کی نسل سے تعلق رکھتا ہو مگر ہے تو میری اور آپ کے طرح کا ہی انسان ، وہ بھی اگر اٹھ کہ مرشدی کا دعوہ کرے کہ میں نبی کی اولاد ہوں میرے پاس معجزاتی علم ہے وغیرہ وغیرہ ، ایسے لوگ ظالم کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں جینے کا کوئی حق نہیں ۔

ملّا (مولانا حضرات) کا نام جہاں سننے میں آتا ہے تو ذہین میں ایک با عزت ، علم رکھنے والا ایک عالم نما شخص کا چہرہ نمودار ہوجاتا ہے جس کے چہرے پہ پر نوراور دھاڑی ہے۔لیکن کیا حال میں ایک با شعور شخص بھی یہی سوچھے گا؟ دین اسلام کی تبلیغ کرنا یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں جو کوئی بٗری بات نہیں ، لوگ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دیکھنا بھی چاہیے، اگر کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچائے بغیر خاموشی سے اپنا کام سر انجام دے رہا ہے ہمیں کیا لینا دینا اس سے، کیونکہ بلوچ قوم ہزاروں سالوں سے سیکولر سوچ رکھتا آیا ہے، اور آج بھی بلوچ سیکولر سوچ ہی رکھتا ہے ۔ مگر امریکہ آقا کو یہ بات کہاں ہضم ہوتی ہے کہ دنیا میں سیکولرزم عام ہو اور وہ اپنے حربے استعمال کرکے سیکولر سوچوں کو مذہبی جنونیت میں تبدیل کرتا آیا ہے۔ اور اس برِاعظم میں اس نے ایک پالتو کتا پالا ہے جو اس کے بول بولتا ہے ، یہ پالتو بڑا ہوشیار ہے اور بڑی شاطری سے مالک کے ہر کام کو سرانجام دیتا آیاہے۔ ۔ یہ وہ بھیڑیا ہے جس نے افغانستان میں نور محمد ترکئی اور نجیب اللہ جیسے عظیم لیڈر نگھل لیے۔ خود کو مسلمانوں کا ٹھیکیدار مان کر اچھا خاصہ نام روشن کر چکا ہے مسلمانیت کا۔ یہاں اسلام کامطلب ہی کچھ اور بن گیا ہے، یہاں مذہب کی آڑھ میں قتل عام اور نہ جانے کون کون سے گناہ نہیں ہو رہے؟، بلوچوں کی بے دردی سے نسل کشی میں سرگرم ہونے کے بعد یہ فتویٰ دیا جاتا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں ملک کی سا لمیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں انہیں ختم کردو۔اس کام کے لیے ہر ضلع میں بڑے بڑے مدرسے( BREEDING PLACES) بنائے گئے ہیں جہاں باقائدہ بلوچوں کے خلاف جہاد اور آقا کے مقاصد پورے کرنے کے لیے لشکروں کوتیار کیا جارہا ہے اور انہیں برین واش کیا جارہا ہے، جن میں بچے اور بڑے طلبا شامل ہیں جن کے والدین انہی مذہب کے ٹھیکیداروں کے بہکاوے میں آکر دینی تعلیم کے لیے اپنے بچوں کو ان مدرسوں میں داخلہ دلاتے ہیں ، ان سب کا سحرا جمعیت کو جاتا ہے جو اتنے نیک کام سرانجام دے رہا ہے۔ تو کوئی یہ بتائے اگر سنا جائے تو لاہور اور رایئونڈ کے مولویوں کی بات جہاں ہیرا منڈی کی بتیوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ، یا سیاست میں جیبیں بھرنے والے کئی بے گنائوں کے موت کے زمئدار اور لوگوں کی سوچوں کے قاتل مولانا فضل ا لرحمان کے جس کی بچیاں مغرب میں مکمل کپڑوں میں نہیں گھومتی ےا پر دیگر تبلیغی جماعتوں کی کہ جو چند روپے اور مراعات کے عوض اپنی ضمیر تو بھیج ہی چکے ہیں قوموں کو بھی غیر انسانی اور فریب و جھوٹ کی تبلیغ کرتے پھر رہے ہیں ۔

غرض یہ کہ سردار سیّد اور ملّا ، یہ تینوں آزاد قوموں کے لیے ناسور ہیں ، یہ سب پیٹ کی پجاری ہیں ، جن کے ہاتھ بے گنائوں کے خون سے رنگے ہوں انہیں جینے کا کوئی حق نہیں ، ان ظالموں کا جتنی جلدی خاتمہ ہو اتنی ہی آزادی قریب ملے گی۔۔۔

Rating: 8.00 (1 vote) - Rate this Article -
Printer Friendly Page Send this Story to a Friend Create a PDF from the article


Bookmark this article at these sites

                   


Main Menu
Search